buri nazar wale tera muh kala shayari


بُری نظر والے تیرا مُنہ کالا ہو گیا،

دل کی خوشیوں کا کیا حال ہو گیا۔


نظریں تیری بدل کر جادو گر گئیں،

دل کی روشنیوں کو کیا مال ہو گیا۔


تیری بدلی نظریں نے دل کو چھوا ہے،

کیا خوشیاں ملیں گی، کیا زوال ہو گیا۔


منہ کالا کرنے کی نظریں تیری نے،

دل کو چھوا ہے زہر کی پیالے سے۔


بدنام ہوگیا تیرا چہرہ بدنام ہو کر،

دل کی دنیا میں کیا کمال ہو گیا۔


کالی راتوں میں بدنام ہوگیا توڑ کر،

دل کی راتوں کو کیا خوشبوئی آئی۔


تیرے منہ کے سایہ نے دل کو سنگ لیا،

دل کا رنگ تیرے منہ کی روشنی سے خود بخود تبدیل ہوگیا۔


بدنام تیرا چہرہ ہوگیا بدنام ہو کر،

دل کی روشنی کا کیا حال ہوگیا۔

Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url